17 اپریل 2010 - 19:30

انھوں نے کہاکہ شیطان لوگوں کے دلوں میں کینہ اورکدورت کوبھڑکا کرانھیں آپس میں لڑاتا ہے ۔

تہران کے خطیب جمعہ نے سات صفرالمظفرفرزند رسول (ص) حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت کی مناسبت سے مبارکباد پیش کی ۔انھوں نے اسلام کے اخلاقی اصول کی اپنی بحث کوجاری رکھتے ہوئے یاد خدا کےبارے میں اپنی گفتگوآگے بڑھائي اورکہاکہ شیطان لوگوں میں اختلاف پیدا کرکے انھیں یاد خدا سے غافل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ انھوں نے کہاکہ شیطان لوگوں کے دلوں میں کینہ اورکدورت کوبھڑکا کرانھیں آپس میں لڑاتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ قرآن کریم کے مطابق اہل بہشت میں ان لوگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی جن کے دل کینے سے پاک ہوں گے ۔ اورسورہ حشر کی آیت نمبردس میں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ مومن خود کہتا ہے کہ پالنے والے کسی بھی مومن کے بارے میں میرے دل میں کینہ نہ ہونے دے چنانچہ اہل بہشت کا وطیرہ یہ ہے کہ وہ عفو و درگذر سے کام لیتے ہيں ۔تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ کوشش یہی ہونی چاہئے جیسا کہ قرآن کا حکم ہے اپنے درمیان بھائی چارہ پیداکریں اور کدورتوں کو دور کریں۔تہران کے خطیب جمعہ نمازکے دوسرے خطبے میں اسلامی انقلاب کی اکیسویں سالگرہ کی آمد کی مناسبت سے کہا کہ  اس انقلاب نے اسلام کو دوبارہ زندہ کیا ، جس اسلام کو افیون کہا جانے لگا تھا اس میں تازہ روح پھونکی اوراس انقلاب نے ایرانی عوام کی عظمت رفتہ کو دوبارہ بحال کیا ۔تہران کے خطیب جمعہ نے اس سلسلے میں جشن انقلاب  تقریبات کا اہتمام کرنے والی کمیٹی کے عہدیداروں سے کہا کہ اس سال بھی عشرہ فجر کی تقریبات شایان شان طریقے سے منعقدکریں۔تہران کے خطیب جمعہ نے کہاکہ رہبر انقلاب اسلامی نے عشرہ فجرکی تقریبات کا اہتمام کرنے والی کمیٹی کے ارکان سے ملاقات میں اہم نکات کی طرف اشارہ کیا ہے اور فرمایا ہے کہ موجودہ صورت حال میں تمام سیاسی جماعتوں کو دشمنوں کے ساتھ اپنی حدیں معین کرنی چاہئیں اور یہ کہ خواص پرسب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ آج ایران میں دو ہی محاذ ہيں ایک انقلاب کا وفادار محاذ جس کی قوت کا مشاہدہ ایک بار پھر دنیا نے تیس دسمبرکے جلوسوں میں کیا؛ اس محاذ میں ایران کے عوام اپنے رہبرکی قیادت میں اسلامی انقلاب کے اصولوں اور اسلامی تعلیمات کی سربلندی کے لئے آگے بڑھ رہے ہيں دوسری طرف انقلاب دشمن محاذ ہے جس  میں امریکہ برطانیہ صہیونی ریاست اور فریب خوردہ عناصر اور منافقین کے افراد ہيں ۔ تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ اس اثناء میں بعض ایسے لوگ بھی ہيں جن کا کہنا ہے کہ وہ نظام کے ساتھ ہيں مگر انھیں کچھ اعتراضات ہیں جبکہ کہ قانون میں اعتراض کرنے والوں کو پورا پورا حق دیا گیا ہے اور معترضین کو کبھی باغی نہیں کہا گیا ہے؛ باغیوں کا حساب الگ ہے وہ محارب ہيں مگر جو لوگ کہتے ہيں ہمیں اعتراض ہے انھيں اپنا موقف صاف کرنا چاہئے کہ وہ کس طرف ہيں؟ دشمن کی طرف ہيں یا اپنوں کی طرف ہيں؟آیت اللہ احمد خاتمی نے کہاکہ جو لوگ خود کو معترض کہتے ہيں تو وہ  کب تک بیانات دیتے رہيں گے وہ بھی ایسے بیانات جن سے دشمن فائدہ اٹھا ئے؟ تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ ان باتوں کے پیش نظر اس طرح کے اعتراضات اور بیانات جن سے دشمن فائدہ اٹھاتا ہے ملک اورقوم سے غداری کے مترادف ہيں۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کے اعتراضات جن میں بنیادی آئین کو نشانہ بنایا جاتا ہے قانونی اور شرعی اعتبارسے جائز نہيں ہیں۔آیت اللہ سید احمد خاتمی نے  کہا کہ آج اسلامی انقلاب کا شجرہ طیبہ اتنا تنومند ہوچکا ہے کہ اسے اس طرح کے بیانات سے نہيں ہلایا جاسکتا ۔انھوں نے کہا کہ جو لوگ خود کو معترض کہتے ہیں انھیں چاہئے کہ اگر وہ عوام کی آغوش میں رہنا چاہتے ہیں تو اپنا راستہ جلد سے جلد واضح کریں ورنہ شکست ان لوگوں کی ہی ہوگی اور عوام ان لوگوں مستردکردیں گے ۔تہران کے خطیب جمعہ نے رہبرانقلاب اسلامی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواص کی جانب سے دو پہلو بیانات دینا مناسب نہيں ہے اس سے بحران پیدا ہوتا ہے۔ خواص پر سب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس ماحول میں اپنا موقف واضح کریں۔انھوں نے کہا شفاف موقف کے اظہار کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم لوگ ولایت فقیہ کو تسلیم کرتے ہو تو اپنے لئے امریکہ اور صہیونی ریاست کی حمایت کی مذمت کرو؛ تمام  تر حادثات اور عاشورہ کے دن ہونےوالے واقعات سمیت ان تمام اقدامات کی جن کے تحت انقلابی اقدار اور امام خمینی کی شان میں گستاخی کی گئی ہے ان کی مذمت کرو۔آیت اللہ سید احمد خاتمی نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں کہا کہ دشمنوں کو جان لینا چاہئے کہ ایٹمی پروگرام اور اس کا معاملہ ایرانی عوام کے نقطۂ نگاہ کے مطابق، ختم ہو چکا ہے اور وہ اپنے اس حق سے ذرہ برابر بھی چشم پوشی نہیں کريں گے ۔انھوں نے ساتھ ہی ان ملکوں کو بھی نصیحت کی جو ایران سے دوستی کا دم تو بھرتے ہيں مگر شیطانی قوتوں کے فریب میں بھی آجاتے ہيں ۔انھوں نے ہیٹی میں آنےوالے شدید زلزلے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس صورت حال سے امریکہ کی طرف سے غلط فائدہ اٹھائے جانے کے اقدام کی مذمت کی ۔ انھوں نے کہاکہ امریکہ نے ہزاروں کی تعداد میں اپنے فوجی ہیٹی روانہ کرکے عملی طور پر اس ملک پرقبضہ کرلیا ہے۔ تہران کے خطیب جمعہ نے کہاکہ ہیٹی کے عوام کو فوری طور پر امداد کی ضرورت ہے مگر امریکی فوج، ہیٹی کے ہوائی اڈے پر موجود امدادی سامان کو متاثرین تک نہیں پہنچنے دے رہی ہے۔تہران کے خطیب جمعہ نے اسی طرح صہیونی ریاست کے جرائم کے بارے میں کہا کہ غزہ پرصہیونی ریاست کے وحشیانہ حملوں کو ایک سال کا عرصہ گذر چکا ہے اس دوران یورپی یونین کے  ایک وفد نے بھی غزہ کا دورہ کیا اور واقعے کے ایک سال بعد غزہ کا دورہ کرنے والے اس وفد کے سربراہ نے بھی کہاہے کہ جب میں نے غزہ میں ہونے والے مظالم کے آثار کا مشاہدہ کیا تو میں لرز اٹھا ۔ تہران کے خطیب جمعہ نے انسانی حقوق کے دفاع کا دعوی کرنے والے ملکوں اور تنظیموں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر فوری طور پر غزہ کے عوام پر ہونے والے مظالم کا تدارک نہ کیا گیا تو صورت حال اور بھی المناک ہوجائے گی اور اس صورت میں انسانی حقوق کی مدافع تنظیموں کے وجود کا فلسفہ ہی سوالیہ نشان بن جائے گا ۔ تہران کے خطیب جمعہ نے بعض عرب ملکوں کی طرف سے صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات برقرار کرنے کی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا متحدہ عرب امارات نے گذشتہ دنوں صہیونی ریاست کے ایک وزیر کی میزبانی کی جو منافقت ہے ۔ انھوں نے کہا کہ عرب ممالک صہیونی ریاست کے ساتھ اس طرح کے تعلقات برقرار کرکے اغیار کے میدان میں کھیلنے کی کوشش کررہے ہيں جس کا کوئی نتیجہ نہيں نکلے گا ۔